حدیث نمبر: 8022
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفِرَاشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ، ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي [ ثُمَّ قَالَ : مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ : كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ وَإِنْسَانٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي كَلَامِ مُعَاوِيَةَ شَيْءٌ تَرَكْتُهُ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے ہمیں بچھونے پر بٹھا دیا پھر کھانا لایا گیا ہم نے اسے کھا لیا پھر مشروب لایا گیا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے پی لیا پھر اُسے میرے والد کی طرف بڑھایا تو انہوں نے کہا: میں نے اسے اس وقت سے نہیں پیا جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قریش کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے عمدہ دانتوں کا مالک تھا ، اور جب میں نوجوان تھا تو مجھے کسی بھی چیز کی اتنی لذت محسوس نہیں ہوتی تھی ، جتنی دودھ کی لذت محسوس ہوتی تھی اور اس انسان ( کی ہم نشینی سے لذت محسوس ہوتی تھی ) جو میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عمدہ بات چیت کرتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کلام میں ایک ایسی چیز تھی جسے میں نے ترک کر دیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (347/5)»