مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ . باب: مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوروں کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مِنْ تَمْرِ الْعَالِيَةِ حِينَ يُصْبِحُ ، لَمْ يَضُرُّهُ سُمٌّ ، وَلَا سِحْرٌ حَتَّى يُمْسِيَ " . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ : عَجْوَةُ الْعَالِيَةِ شِفَاءُ أَوَّلِ الْبَكْرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَمُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ اللَّخْمِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص صبح کے وقت ( مدینہ منورہ کے ) بالائی حصے کی کھجوروں میں سے سات عجوہ کھجوریں کھا لے اسے شام ہونے تک کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت مذکور ہے : ” عالیہ ( یعنی بالائی علاقے ) کی ، عجوہ کھجور ، صبح کے آغاز میں شفاء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے دحیم اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی منبہ بن عثمان لخمی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔