مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ . باب: مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوروں کا بیان
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي : ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ عَلَى الرِّيقِ لَا يَضُرُّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ " . ¤ قَالَ فُلَيْحٌ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ قَالَ عُمَرُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - : انْظُرْ يَا عَامِرُ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ وَلَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ وَفِيهِ : لَمْ يَضُرُّهُ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ . وَفِي هَذَا : لَمْ يَضُرُّهُ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان موجود عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجوریں ، نہار منہ کھا لے ، تو اس دن میں ، شام ہونے تک وہ چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ فلیح نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : ” اگر کوئی شخص شام کے وقت انہیں کھا لے ، تو صبح ہونے تک کوئی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے عامر ! آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا حدیث بیان کر رہے ہیں انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے ، اور نہ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ، اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچائے گا “ جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔