حدیث نمبر: 80
عَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي أَنْ يَقُولَهُ فَلَمْ يَقُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ، کہ شیطان ہمارے من میں جو چیز ڈال دیتا ہے ، اُس سے نجات کا طریقہ کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اس سے تمہیں یہ چیز نجات دلائے گی کہ تم وہ کلمہ پڑھ لو ، جو میں نے اپنے چچا کو ، ان کے انتقال کے وقت پڑھنے کا کہا: تھا ، اور انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا ۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ ”کتاب الثقات “میں کیا ہے ، تاہم زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 80
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 8/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 72»