حدیث نمبر: 81
وَعَنْ خُزَيْمَةَ - يَعْنِي : ابْنَ ثَابِتٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ الْإِنْسَانَ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، حَتَّى يَقُولَ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان انسان کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالی نے ، شیطان کہتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ، یہاں تک کہ شیطان کہتا ہے : اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے ، تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسونوں پر ایمان رکھتا ہوں “ ۔

یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 81
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 214/5 أورده المؤلف فى زوائد المسند 71»