حدیث نمبر: 8
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ فَلَقِيَنِي عُمَرُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ اتَّكَلُوا عَلَيْهَا . قَالَ : فَرَجَعْتُ ، فَأَخْبَرْتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " صَدَقَ عُمَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ أَصَحُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ کہے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے
تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اُس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو خواہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ! ( یعنی اسے یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے ) ۔
راوی کہتے ہیں : میں نکلا تاکہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کروں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ ! کیونکہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا ، تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں گئے راوی کہتے ہیں : تو میں واپس آ گیا
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند سب سے زیادہ مستند ہے اس میں ایک راوی ابن لیعہ ہے جس سے کئی حضرات نے استدلال کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 8
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3400 ، أورده المؤلف فى زوائد المسند 10 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 5»