حدیث نمبر: 798
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ فَرَائِضَ ، وَسَنَّ سُنَنًا ، وَحَدَّ حُدُودًا ، وَأَحَلَّ حَلَالًا ، وَحَرَّمَ حَرَامًا ، وَشَرَعَ الدِّينَ فَجَعَلَهُ سَهْلًا سَمْحًا وَاسِعًا وَلَمْ يَجْعَلْهُ ضَيِّقًا ، أَلَا إِنَّهُ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّةَ اللَّهِ طَلَبَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي خَاصَمْتُهُ ، وَمَنْ خَاصَمْتُهُ فَلَجْتُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي لَمْ يَنَلْ شَفَاعَتِي ، وَلَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الْقَتْلِ إِلَّا ثَلَاثَةً : مُرْتَدٌّ بَعْدَ إِيمَانٍ ، أَوْ زَانٍ بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ قَاتِلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِقَتْلِهِ ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے ، خبردار ! بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں ، کچھ سنن مقرر کی ہیں ، کچھ حدود متعین کی ہیں ، اُس نے کچھ چیزوں کو حلال قرار دیا ہے اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اُس نے دین کو مشروع قرار دیا ہے اور اسے سہل ، نرم اور وسیع ( یعنی زیادہ گنجائش والا ) بنایا ہے اس نے اسے تنگ نہیں بنایا ہے ، خبردار ! اس شخص کا ایمان نہیں جس کی امانت نہ ہو ، اور اُس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ، اور جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، میں اُس کا مقابلہ فریق بنوں گا اور جس شخص کا مقابل فریق میں ہوؤں گا میں اسے مغلوب کر دوں گا ، جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی اور وہ حوض ( کوثر ) پر نہیں آئے گا ، خبردار ! بے شک اللہ تعالیٰ نے کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ، البتہ تین افراد کا معاملہ مختلف ہے ، ایمان کے بعد مرتد ہو جانا ، محصن ہونے کے باوجود زنا کرنے والا شخص اور کسی کو قتل کرنے والا شخص ، کہ اُس قتل کے بدلے میں ، اُسے قتل کر دیا جائے گا ، خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے جس کا لقب “” “” بحنش “” “” ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11552 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 2458»