مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُؤْمِنِ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ . باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
وَعَنْ جَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ قَدَمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْإِسْلَامَ فَحَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ " . وَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِي وَكُنْتُ رَجُلًا عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى حَلَبَ [ لِي ] سَبْعَ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ [ أُتِيتُ ] بِصَنِيعِ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ، وَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : أَجَاعَ اللَّهُ مَنْ أَجَاعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ اللَّيْلَةَ . قَالَ : " مَهْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَكَلَ رِزْقَهُ وَرِزْقُنَا عَلَى اللَّهِ " فَأَصْبَحُوا فَغَدَوْا فَاجْتَمَعَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُخْبِرُ بِمَا أَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ جَهْجَاهٌ : حُلِبَ لِي سَبْعُ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا وَصَنِيعُ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا . فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ فَقَالَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ " فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِي وَكُنْتُ رَجُلًا عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا ، فَرَوِيتُ وَشَبِعْتُ ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هَذَا ضَيْفَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ أَكَلَ فِي مِعًى مُؤْمِنٍ اللَّيْلَةَ وَأَكَلَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مِعًى كَافِرٍ . الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنی قوم کے کچھ افراد سمیت آئے وہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ لوگ مغرب کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے ساتھ موجود فرد کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور میرے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا میں ایک بھاری بھرکم لمبا تڑنگا شخص تھا کوئی بھی میرے لئے آگے نہیں بڑھا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے آپ نے میرے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا وہ میں نے پی لیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات بکریوں کا دودھ میرے لئے دوہ لیا تو میں نے انہیں پی لیا پھر میرے پاس ہانڈی میں پکا ہوا سالن لایا گیا تو میں نے وہ بھی کھا لیا ام ایمن نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھوکا رکھے جس نے اللہ کے رسول کو آج کی رات بھوکا رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! رک جاؤ اس نے اپنا رزق کھایا ہے ، اور ہمارا رزق اللہ کے ذمہ ہے اگلے دن صبح ہوئی ، تو وہ لوگ آئے سب لوگ اکھٹے ہوئے سیدنا جہجاہ رضی اللہ عنہ بھی اور ان کے ساتھی بھی اکھٹے ہوئے ہر شخص نے بتانا شروع کیا کہ جو اس نے کھایا تھا سیدنا جہجاہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میرے لئے سات بکریوں کا دودھ دوہ لیا گیا تھا تو وہ میں نے پی لیا اور ہنڈیا تیار کی گئی تھی وہ میں نے کھا لی پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ لے پھر مسجد میں میرے علاوہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا میں ایک بھاری بھرکم لمبا تڑنگا شخص تھا میرے لئے کوئی آگے نہیں بڑھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے آپ نے میرے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ لیا میں اس سے سیر بھی ہو گیا اور سیراب بھی ہو گیا تو ام ایمن نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ ہمارا وہی مہمان نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے آج رات مومن کی آنت میں کھانا کھایا ہے ، اور اس سے پہلے اس نے کافر کی آنت میں کھایا تھا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں یہ امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔