مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ قِلَّةِ الْأَكْلِ . باب: تھوڑا کھانا
وَعَنْ جَعْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . ¤سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیٹ والے شخص کو دیکھا تو اپنی انگلیاں اس کے پیٹ میں لگا کے فرمایا : اگر یہ اس کے علاوہ کسی اور میں ہوتا تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص نے خواب میں دیکھا ، آپ نے اسے بلوایا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب سنایا ، اس شخص کا پیٹ بڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی اس کے پیٹ پر لگائی اور فرمایا : اگر یہ اس جگہ کے علاوہ کہیں ہوتا تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوتا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو خواب میں دیکھا تھا ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابواسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى لَهُ رَجُلٌ رُؤْيَا ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ فَقَصَّهَا عَلَيْهِ ، وَكَانَ عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . ¤ رَوَاهُ [ كُلُّهُ ] الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ الَّذِي رَأَى الرُّؤْيَا لِلرَّجُلِ . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ایک روایت میں ہے کہ : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خواب دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا بھیجا ۔ جب وہ آیا تو اس نے اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ، اور وہ شخص بڑے پیٹ والا (مؤٹا) تھا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک سے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (یا چھوتے ہوئے ) فرمایا : ” اگر یہ (گوشت/چربی) اس کے علاوہ کسی اور جگہ (مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد وغیرہ میں) ہوتا تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا “ ۔
اس تمام روایت کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے ، اور امام أحمد رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے مگر ان کی روایت میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس شخص کے بارے میں خواب دیکھا تھا ؛ اور تمام سندوں کے راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے ابواسرائیل جشمی کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔