مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ الطَّعَامِ . باب: کھانے کے بعد آدمی کیا پڑھے ؟
وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ : تَعَشَّيْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ فَشِبَعَ وَشَرِبَ فَرَوِيَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي وَأَشْبَعَنِي وَسَقَانِي وَأَرْوَانِي ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤حماد بن ابوسلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے ( سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ) ابوبردہ کے ساتھ رات کا کھانا کھایا ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میرے والد سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ( یعنی سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بیان کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کھانا کھائے ، اور سیر ہو جائے ، اور پیئے ، اور سیراب ہو جائے ، تو وہ یہ پڑھے : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے مجھے کھلایا تو مجھے سیر کر دیا اور پلایا تو مجھے سیراب کر دیا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو وہ شخص گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔