حدیث نمبر: 7853
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ادَّعَى نَصْرُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ السُّلَمِيُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَب‍َاحٍ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَالَ : مَوْلَايَ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَايَ ، وَقَالَ نَصْرٌ : أَخِي أَوْصَانِي بِمَنْزِلِهِ قَالَ : فَطَالَتْ خُصُومَتُهُمْ ، فَدَخَلُوا مَعَهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ - وَفِهْرٌ تَحْتَ رَأْسِهِ - فَادَّعَيَا ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ قَالَ نَصْرٌ : فَأَيْنَ قَضَاؤُكَ هَذَا يَا مُعَاوِيَةُ فِي زِيَادٍ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ لَا يُجِيبُ نَصْرًا إِلَى مَا يَدَّعِي ، فَقَالَ نَصْرٌ : ¤ أَبَـا خَـالِدٍ خُذْ مِثْلَ مَالِي وِرَاثَةً وَخُذْنِي أَخًا عِنْدَ الْهَزَاهِزِ شَاهِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ مَـالِي ثَرَاءٌ وَمَنْصِبٌ سَبْـيٌ وَأَعْرَاقٌ تَهُزُّكَ صَـاعِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ لَا تَجْعَـلَنَّ بَنَـاتِنَـا إِمَـاءً لِمَخْزُومٍ وَكُـنَّ مَوَاجِدَا ¤ أَبَا خَالِدٍ إِنْ كُنْتَ تَخْشَى ابْنَ خَالِدٍ فَلَمْ يَكُنِ الْحَجَّاجُ يَرْهَبُ خَالِدَا ¤ أَبَـا خَـالِدٍ لَا نَحْنُ نَـارٌ وَلَا هُمُ جِنَانٌ تَرَى فِيهَا الْعُيُونَ رَوَاكِدَا ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نصر بن حجاج بن علاط سلمی نے سیدنا خالد بن ولید کے غلام عبداللہ بن رباح کے بارے میں دعوی کر دیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن اٹھے اور بولے : یہ میرا غلام ہے جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے نصر بن حجاج نے کہا: یہ میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی تھی راوی کہتے ہیں : جب ان دونوں کا جھگڑا زیادہ ہو گیا تو یہ اس کو ساتھ لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جن کے سر کے نیچے ایک پتھر موجود تھا ، اُن دونوں نے اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بچہ فراش والے کو ملتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے “ ۔ اس پر نصر بن حجاج نے کہا: اے معاویہ ! پھر زیاد کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کا فیصلہ ، معاویہ کے فیصلے سے بہتر ہے عبداللہ بن رباح نے نسر بن حجاج کے دعوے کا کوئی جواب نہیں دیا تو نصر نے یہ اشعار کہے : ” اے ابوخالد ! میرے مال جتنا ( مال ) وراثت کے طور پر لے لو ، اور مجھے میرا بھائی دیدو ، جو آزمائشوں کے وقت گواہ ہے ، اے ابوخالد میرا مال عمدہ ہے ، اور میرا منصب بہترین ہے اور ایسی رگیں ہیں جو تمہیں آگے چل کر ہلاتی رہیں گی ، اے ابوخالد تم ہماری بیٹیوں کو مخزوم کی کنیزیں نہ بنوا دینا ، ورنہ وہ پریشان ( یا غصہ ) ہو جائیں گی ، اے ابوخالد ! اگر تم ابن خالد سے ڈرتے ہو ، تو حجاج نے خالد کو بھگایا نہیں ہے ، اے ابوخالد ! نہ تو ہم آگ ہیں اور نہ ہی وہ ( ایسے ) باغات ہیں ، جن میں ٹھہرے ہوئے چشمے نظر آتے ہوں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7853
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7390)»