حدیث نمبر: 7852
وَعَنْ زَيْنَبَ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ جَارِيَةً فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، وَإِنَّا كُنَّا نَتَّهِمُهَا ؟ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِهِ " فَلَمَّا أَتَوْهُ بِهِ نَظَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " إِنَّ الْمِيرَاثَ لَهُ ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ زینب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ایک کنیز چھوڑی تھی جس نے ایک بچے کو جنم دیا ہم اس کنیز پر تہمت عائد کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ جب وہ لوگ اس بچے کو لے کے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا : اس بچے کو وراثت ملے گی لیکن تم اس سے پردہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد بن ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7852
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (288/24)»