مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ . باب: بچہ فراش والے کو ملے گا
وَعَنِ ابْنَةِ زَمْعَةَ قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ ، وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا : " أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَابِعِيهِ لَمْ يُسَمِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤زمعہ کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے اپنی اُم ولد چھوڑی ہے ہم اس عورت کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں اس عورت کے کسی شخص کے ساتھ تعلقات ہیں اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس کا بچہ اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جس کے بارے میں ہمارا گمان تھا اس کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم اس لڑکے سے پردہ کرو وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ، البتہ اسے وارثت ملے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔