مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيلَاءِ . باب: ایلاء کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسَبُهُ قَالَ : شَهْرًا ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَأَنْتَ هَكَذَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ [ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ ] هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ لاتعلقی اختیار کر لی شعبہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک ماہ کے لئے لاتعلقی اختیار کی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانے میں چٹائی پر موجود تھے اور چٹائی کا نشان آپ کی پشت پر لگا ہوا تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسری سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ کی یہ حالت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں ان کی بہترین چیزیں دنیاوی زندگی میں دیدی گئی ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے تیسری مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا نیچے کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیج ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔