مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ إِذَا عُتِقَتْ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ . باب: کنیز جب آزاد ہو جائے ، اور وہ کسی غلام کی بیوی ہو تو اسے ( شوہر سے علیحدگی ) کا اختیار دینا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتَعْتِقَهَا فَقَالَ مَوَالِيهَا : لَا ، إِلَّا أَنْ تَجْعَلِي لَنَا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، إِنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ " . ¤ قَالَ : وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ يُدْعَى مُغِيثًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ ، وَجَعَلَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخِيَارَ . ¤ قَالَ : وَحَدَّثَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عِدَّتَهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارادہ کیا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر اسے آزاد کر دیں ، تو اس کے آقاؤں نے کہا: جی نہیں آپ کو ولاء کا حق ہمارے لئے رہنے دینا ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے وہ ایسی شرائط طے کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے جو شخص کوئی ایسی شرط طے کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو ، تو وہ ( شرط ) باطل ( یعنی کالعدم ) شمار ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون ایک غلام کی بیوی تھی جن کا نام مغیث تھا وہ بنومغیرہ کے غلام تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اختیار دیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی عدت آزاد عورت کی عدت کی مانند قرار دی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔