مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ إِذَا عُتِقَتْ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ . باب: کنیز جب آزاد ہو جائے ، اور وہ کسی غلام کی بیوی ہو تو اسے ( شوہر سے علیحدگی ) کا اختیار دینا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ : فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ ، قَالَ : فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ : قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِدَّةَ الْحُرَّةِ ، قَالَ : وَتَصَدَّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس خاتون کے پیچھے جا رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے بارے میں چار فیصلے دیے تھے آپ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے آپ نے اس خاتون کو اختیار دیا تھا ، اور اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ آزاد عورت کی مانند عدت گزارے گی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ اس خاتون کو صدقہ کے طور پر کوئی چیز دی گئی اس نے اس چیز میں سے کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تحفے کے طور پر دیدیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس کے لئے صدقہ تھا ، اور ہمارے لئے ہدیہ کے طور پر ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔