مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ إِذَا عُتِقَتْ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ . باب: کنیز جب آزاد ہو جائے ، اور وہ کسی غلام کی بیوی ہو تو اسے ( شوہر سے علیحدگی ) کا اختیار دینا
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَةُ فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا ، إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا ، وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا هَكَذَا وَمُرْسَلًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، وَفِي الْمُتَّصِلِ الْفَضْلُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ وَابْنُ لَهِيعَةَ حَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب کسی کنیز کو آزاد کر دیا جائے ، تو اسے اختیار ہو گا ، جب تک اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا اگر وہ چاہے گی ، تو شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے گی اگر شوہر نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ، تو پھر عورت کے لئے اختیار نہیں رہے گا پھر وہ شوہر سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور ایک سند کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ متصل روایت کی سند میں ایک راوی فضل بن عمرو بن امیہ ہے ، اور وہ مستور ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔