مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ مَتَى تَحِلُّ الْمَبْتُوتَةُ . باب: طلاق بتہ والی عورت کب حلال ہوتی ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سِمْوَالٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ تَزَوَّجَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ وَأَوْمَأَتْ إِلَى هُدْبَةٍ مِنْ ثَوْبِهَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْرِضُ عَنْ كَلَامِهَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ، لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ مُرْسَلًا ، وَهُوَ هُنَا مُتَّصِلٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رفاعہ بن سموال نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: یا رسول اللہ ! عبدالرحمن نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے ، لیکن اس کا ساتھ صرف اس کی مانند ہے اس خاتون نے اپنے کپڑے کے کنارے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے کلام سے اعراض کیا اور پھر اس سے فرمایا تم یہ چاہتی ہو کہ تم رفاعہ کے پاس واپس چلی جاؤ ؟ جی نہیں ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اس ( یعنی اپنے دوسرے شوہر ) کا شہد نہیں چکھ لیتی ہو اور وہ تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام مالک نے ” موطا “ میں مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور یہ روایت یہاں متصل ہے ۔