مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ مَتَى تَحِلُّ الْمَبْتُوتَةُ . باب: طلاق بتہ والی عورت کب حلال ہوتی ہے ؟
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوِ الرُّمَيْصَاءَ جَاءَتْ تَشْكُو زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَقَالَ : كَذَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَفْعَلُ ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غمیصاء ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) رمیصاء نامی خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے شوہر کی شکایت کرنے کے لئے آئیں اس نے کہا: وہ شخص اس عورت کے ساتھ قربت نہیں کرتا ہے اس کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ جھوٹ بول رہی ہے میں ایسا کرتا ہوں لیکن یہ چاہتی کہ یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس چلی جائے راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ عورت اس شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک ( دوسرا شوہر ) اس کا شہد نہیں چکھ لیتا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔