حدیث نمبر: 7791
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا وَذَاقَتْ مِنْ عُسَيْلَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَمَاتَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ دِينَارٍ الطَّاحِيَّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جس کی بیوی ہوتی ہے ، اور وہ اسے تین طلاقیں دیدیتا ہے اس کے بعد ایک مرد ، اُس عورت سے شادی کر لیتا ہے ، اور وہ اس کی رخصتی کروانے سے پہلے اس عورت کو طلاق دیدیتا ہے ، تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو نہیں چکھ لیتا جسے پہلے نے چکھا تھا ، اور عورت مرد کے شہد کو نہیں چکھ لیتی “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دوسرا شوہر اس عورت کی رخصتی سے پہلے انتقال کر گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن دینار طاحی کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابوحاتم ابوزرعہ اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1505) اخرجه ابو يعلي فى المسند (4199) اخرجه احمد فى المسند (284/3)»