مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُكْثِرُ الطَّلَاقَ وَسَبَبِ الطَّلَاقِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو بکثرت طلاق دیتا ہے ، اور طلاق کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 7761
عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُطَلَّقُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنْ رِيبَةٍ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يُحِبُّ الذَّوَّاقِينَ ، وَلَا الذَّوَّاقَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ فِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَغَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خواتین کو صرف مشکوک صورت حال ( یعنی کسی شرعی خرابی کی صورت ) میں طلاق دی جائے گی ، بے شک اللہ تعالیٰ چکھنے والے مردوں اور چکھنے والی عورتوں ( یعنی حلالہ کی خاطر وقتی نکاح کرنے والوں ) کو پسند نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، جسے امام أحمد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن سعید اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔