مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا . باب: اس بات کی ممانعت کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس جائے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا " يَعْنِي إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرٍ لَا يَأْتِي أَهْلَهُ إِلَّا نَهَارًا ، قَالَ : فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَافِلًا مِنْ سَفَرٍ وَذَهَبَ رَجُلَانِ فَسَبَقَا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کے وقت خواتین کے پاس نہ جاؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی جب کوئی سفر سے آئے ، تو وہ صرف دن کے وقت اپنی بیوی کے پاس جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے تھے دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد بھی اپنی بیویوں کے پاس چلے گئے ، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ایسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ . تَقَدَّمَ فِي النَّظَرِ إِلَى مَنْ يُرِيدُ تَزْوِيجَهَا . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ؛ یہ (مضمون) اس عورت کو دیکھنے کے باب میں گزر چکا ہے جس سے کوئی نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ۔