حدیث نمبر: 7738
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ فَتَعَجَّلَ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَقَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ رَوَاحَةَ . . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر سے واپس آئے ، اور اپنی بیوی کے پاس چلے گئے گھر میں چراغ موجود تھا ، اور ان کی بیوی کے ساتھ کوئی موجود تھا انہوں نے تلوار پکڑ لی ، تو ان کی بیوی نے کہا: آپ پیچھے رہیں یہ فلاں عورت ہے جو میری کنگھی کیا کرتی ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کر دیا کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) اپنی بیوی کے پاس جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلمہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع