حدیث نمبر: 7732
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَثُرَ عَلَى مَارِيَةَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ فِي قِبْطِيٍّ ابْنِ عَمٍّ لَهَا كَانَ يَزُورُهَا وَيَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا السَّيْفَ فَانْطَلِقْ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ عِنْدَهَا فَاقْتُلْهُ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُونُ فِي أَمْرِكَ إِذَا أَرْسَلْتَنِي كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ لَا يَثْنِينِي شَيْءٌ حَتَّى أَمْضِيَ لِمَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ ؟ قَالَ : " بَلِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ " فَأَقْبَلْتُ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَهَا فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ فَلَمَّا رَآنِي أَقْبَلْتُ نَحْوَهُ عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُهُ فَأَتَى نَخْلَةً فَرَقِيَ ، ثُمَّ رَمَى بِنَفْسِهِ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ شَغَرَ بِرِجْلِهِ فَإِذَا هُوَ أَجَبُّ أَمْسَحُ مَا لَهُ قَلِيلٌ ، وَلَا كَثِيرٌ فَغَمَدْتُ السَّيْفَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَصْرِفُ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الضِّيَاءُ فِي أَحَادِيثِهِ الْمُخْتَارَةِ عَلَى الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک قبطی شخص اُم ابراہیم سیدہ ماریہ کے پاس بکثرت آیا جایا کرتا تھا وہ ان کا چچا زاد تھا ، اور وہ ان سے ملنے آیا کرتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ تلوار لو اور جاؤ اور اگر تم اس شخص کو اس عورت کے پاس پاؤ تو اسے قتل کر دینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اس حکم کے حوالے سے میں ایک گرم کیے ہوئے سکے کی مانند ہو گیا ہوں کوئی بھی چیز مجھے واپس نہیں کرے گی جب تک میں اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا جو آپ نے مجھے دیا ہے یا پھر یہ ہے کہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی میں اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی تم اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتے ہو ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں تلوار لے کے نکل کھڑا ہوا میں نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا میں نے تلوار سونت لی جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اس کی طرف آ رہا ہوں ، تو اسے میرے ارادے کا اندازہ ہو گیا وہ ایک درخت کے پاس آیا اور اس پر چڑھ گیا پھر اس نے اس سے چھلانگ لگائی ، تو وہ گدی کے بل گرا اس کی ٹانگیں پھیل گئی ، تو وہ ایک ایسا شخص تھا جس کی شرمگاہ نہیں تھی نہ تھوڑی نہ زیادہ میں نے تلوار میان میں رکھ لی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہم اہل بیت سے اس چیز کو پھیر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ضیاء مقدسی نے یہ کتاب الاحادیث المختارہ میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1491)»