حدیث نمبر: 7731
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا أَضْرِبْهُ بِسَيْفِي ؟ وَقَالَ : " أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ " قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ " [ قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ ] ، أَيَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَذَا سَيِّدُكُمُ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً قَطُّ قَدِرَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا لِغَيْرَتِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَعْدٌ غَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " قَالَ رَجُلٌ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللَّهُ ؟ قَالَ : عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن شرحبيل بن عمرو بن سعید بن سعد بن عبادہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پیٹ پر پاؤں گا ، تو اپنی تلوار کے ذریعے اسے مار دوں گا ، انہوں نے یہ بھی کہا: تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں ، پھر بعد میں انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی کتاب کے مطابق ) عمل کیا جائے گا ) اور گواہ پیش کیے جائیں گے ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ( کے مطابق عمل کیا جائے گا ) اور گواہ ( پیش کیے جائیں گے ) اے انصار کے گروہ یہ تمہارا سردار اسے غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہاں تک کہ یہ اللہ کی کتاب ( کے حکم ) کے برخلاف کرنا چاہتا ہے راوی کہتے ہیں : تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مزاج کے تیز ہیں انہوں نے جب بھی کسی خاتون کو طلاق دی ، تو ان کے مزاج کی تیزی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اس خاتون کے ساتھ شادی نہیں کر سکا راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد غیور ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کس چیز کے حوالے سے غصے میں آتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے جانے والے شخص کے حوالے سے ، جب اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے پاس جایا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5394)»