حدیث نمبر: 7705
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - بِمِرْطٍ فَاسْتَغَلَّاهُ ، قَالَ : فَمَرَّ بِهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فَاشْتَرَاهُ فَكَسَاهُ امْرَأَتَهُ سُخَيْلَةَ بِنْتَ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - فَقَالَ : مَا فَعَلَ الْمِرْطُ الَّذِي ابْتَعْتَ ؟ قَالَ عَمْرٌو : تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى سُخَيْلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ فَقَالَ : " إِنَّ كُلَّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ صَدَقَةٌ " قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَاكَ ، فَذَكَرَ مَا قَالَ عَمْرٌو لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " صَدَقَ عَمْرٌو كُلُّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( یہ شک بعد والے راوی کو ہے ) کا گزر ایک چادر والے شخص کے پاس سے ہوا انہیں وہ چادر مہنگی لگی پھر سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو انہوں نے وہ چادر خرید لی اور انہوں نے وہ چادر اپنی بیوی سخیلہ بنت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو پہننے کے لئے دیدی بعد میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا سیدنا عبدالرحمن کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : تم نے جو چادر خریدی تھی اس کا کیا بنا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے وہ سخیلہ بنت عبیدہ ( یعنی اپنی بیوی ) کو صدقہ کر دی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتے ہو وہ صدقہ ہوتا ہے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، ان صاحب نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا جو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو نے ٹھیک بات کہی تھی تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ ( بھی بھلائی ) کرو گے وہ ان پر صدقہ ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7705
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6877)»