حدیث نمبر: 7704
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى عَلَيْهِ فِي السُّوقِ ، وَهُوَ يَسُومُ بِمِرْطٍ قَالَ : مَا هَذَا يَا عَمْرُو ؟ قَالَ : مِرْطٌ اشْتَرَيْتُهُ فَأَتَصَدَّقُ بِهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَأَنْتَ إِذًا ، ثُمَّ أَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا عَمْرُو مَا صَنَعَ الْمِرْطُ ؟ قَالَ : تَصَدَّقْتُ بِهِ ، قَالَ : عَلَى مَنْ ؟ قَالَ : عَلَى سَخِيلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ قَالَ : أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ تَصَدَّقْتَ بِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو : يَا عُمَرُ لَا تَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَوَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى نَأْتِيَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ : يَا عَمْرُو لَا تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ عَمْرٌو : أُنْشِدُكَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ ؟ " فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَيْنَ كُنْتَ عَنْ هَذَا ؟ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَى لَهُ أَحْمَدُ : " مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بازار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک چادر کے بارے میں بھاؤ تاؤ کر رہے تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے عمرو ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ ایک چادر ہے ، جسے میں نے خریدا ہے ، اور میں اسے صدقہ کروں گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ایسا کر لینا پھر وہ بعد میں ان کے پاس آئے ، اور دریافت کیا : اے عمرو ! اس چادر کا کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اسے صدقہ کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کس کو ؟ انہوں نے جواب دیا : ( اپنی بیوی ) سخیلہ بنت عبیدہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم ، تو اسے صدقہ کرو گے ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان خواتین ( یعنی بیویوں ) کو تم جو بھی چیز دیتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمرو ! اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوؤں گا ، جب تک ہم اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں جاتے ، انہوں نے کہا: اے عمرو ! تم اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ، ان لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ ان خواتین ( یعنی اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیتے ہو ، وہ تمہارے لئے صدقہ ہوتا ہے “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اے اللہ ! جی ہاں ! اے اللہ ! جی ہاں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے آپ کو مخاطب کر کے ) کہا: میں اس کے بارے میں کہاں نا واقف تھا ؟ بازار کے بھاؤ تاؤ نے مجھے غافل رکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے ان کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” آدمی اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہوتی ہے “ ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7704
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1507) اخرجه احمد فى المسند (179/4)»