مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى . باب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ : رَجُلٌ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَأَجْرُهُ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا عَمِلَ بِهِ ، وَرَجُلٌ أَجْرَى صَدَقَةً فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چار لوگ ہیں ، جن کے اجور موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں ، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جائے ، وہ شخص جو کسی علم کی تعلیم دے ، تو جب تک اس علم پر عمل کیا جاتا رہتا ہے ، اس شخص کا عمل جاری رہتا ہے ، وہ شخص جو صدقہ جاریہ کرے کہ جب تک وہ صدقہ چلتا رہتا ہے ، اُس کا اجر جاری رہتا ہے اور وہ شخص جو نیک اولاد چھوڑ کر جائے جو اس کے لئے دعا کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔