مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى . باب: اس شخص کا بیان’ جو بھلائی کے کسی کام یا اُس کے علاوہ (یعنی برائی) کا طریقہ آغاز کرے یا وہ ہدایت کی طرف دعوت دے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ إِلَّا جَرَى لَهُ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : لَا يُعْرَفُ . قُلْتُ : وَشَيْخُ ابْنُ مَوْهَبٍ مَالِكُ بْنُ حَالِكِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنی زبان کو حق کے لیے استعمال کرتا ہے ، تاکہ اُس کے بعد اس حق پر عمل کیا جائے ، تو اُس شخص کا اجر قیامت کے دن تک جاری رہتا ہے ، پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُسے پورا ثواب عطا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ( یا اس کی شناخت نہیں ہو سکی ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن موہب کے استاد مالک بن مالک بن حارثہ انصاری ہیں ، میں نے کسی کو اُن کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔