حدیث نمبر: 7665
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا ، وَهُوَ كَارِهٌ ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا ، وَلَا تُخَشِّنَ بِصَدْرِهِ ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ ، وَلَا تَضْرِبْهُ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا حَتَّى تُرْضِيَهُ ، فَإِنْ هُوَ رَضِيَ وَقَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ قَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا وَأَفْلَحَ وَجْهُهَا ، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا ، فَقَدْ أَبْلَغَتْ عُذْرَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عورت کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی ایسے شخص کو اجازت دے جسے شوہر ناپسند کرتا ہو اور اگر شوہر ناپسند کرتا ہو تو وہ گھر سے بھی نہ نکلے اور شوہر کے بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے اور اس کو ناراض نہ کرے اور اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کو نہ مارے ، اگرچہ شوہر نے اس پر ظلم کیا ہو یہاں تک کہ وہ شوہر کو راضی کر لے اگر وہ شوہر راضی ہو جاتا ہے ، اور اس کے عذر کو قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ، اور اچھی بات ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے عذر کو قبول کر لے گا ، اور وہ عورت کامیاب ہو جائے گی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اور اگر شوہر بات نہیں مانتا اور اس سے راضی نہیں ہوتا تو عورت نے اپنا عذر پیش کر دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (62/20)»