حدیث نمبر: 7664
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ مَوْلُودُ الْإِسْلَامِ فِي الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ فِي جَانِبِ الْمِصْرِ يَزُورُ أَخَاهُ لَا يَزُورُهُ إِلَّا اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الْوَدُودُ الْوَلُودُ الَّتِي إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُغْضِبَتْ قَالَتْ : يَدِي فِي يَدِكَ ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کیا میں تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنتی ہے صدیق جنتی ہے شہید جنتی ہے اسلام میں پیدا ہونے والا بچہ ( جو بچپن میں فوت ہو جائے ) جنتی ہے ، اور وہ شخص جو شہر کے کونے پر رہتا ہو اور اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے جائے وہ جنتی ہے ، اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اسے غصہ دلایا جائے ، تو وہ یہ کہے : میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے ، میں نہیں سوؤں گی ( جب تک آپ راضی نہیں ہوتے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7664
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12467)»