حدیث نمبر: 7654
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ؟ قَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ ضَعُفَ . وَفِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ غَيْرُ حَدِيثٍ مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مہاجرین اور انصار کے ساتھ تشریف فرما تھے اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا آپ کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، تو ہم ، تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اگر مرد بیوی کو یہ ہدایت کرے کہ وہ زرد پہاڑ کو سیاہ پہاڑ کی طرف منتقل کر دے یا ایک ( سیاہ ) پہاڑ کو سفید پہاڑ کی طرف منتقل کر دے ، تو عورت کے لئے مناسب یہ تھا کہ وہ ایسا کرے ( یعنی ایسا کرنے کی کوشش کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے نبوت کی علامات سے متعلق باب میں اس نوعیت کی ایک حدیث آئے گی جو اس کے علاوہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7654
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (76/6)»