حدیث نمبر: 7640
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانَةَ . قَالَ : " قُولِي حَاجَتَكِ " قَالَتْ : حَاجَتِي أَنَّ فُلَانًا يَخْطُبُنِي فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ تَزَوَّجْتُهُ ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْهُ لَا أَتَزَوَّجُ . قَالَ : " إِنَّ مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا فَلَحِسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ وَلَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا " . قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں فلانہ بنت فلانہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ضرورت بیان کرو اس نے عرض کی : مجھے یہ کام ہے کہ فلاں شخص نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے آپ مجھے بتائیے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے اگر تو وہ کوئی ایسی چیز ہوئی جس کی میں طاقت رکھتی ہوئی ، تو میں اس شخص سے شادی کر لوں گی اور اگر میں اس کی طاقت نہ رکھتی ہوئی ، تو پھر میں شادی نہیں کروں گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیوی کا شوہر کے بیوی پر حق میں یہ بات شامل ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ رہے ہوں ، اور وہ عورت اس کو چاٹ لے ، تو وہ اس کے حق کو ادا نہیں کرے گی اگر کسی انسان کے لئے یہ مناسب ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے جب بھی وہ شخص اس کے ہاں آئے اس خاتون نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جب تک میں دنیا میں رہی میں شادی نہیں کروں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى السند (1466)»