حدیث نمبر: 7637
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ ؟ " قَالَتْ : مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ . قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ ، فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَانْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حُصَيْنٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

حصین بن محصن بیان کرتے ہیں : ان کی پھوپھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم شوہر والی ہو اس نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیسا تعلق ہے اس خاتون نے کہا: میں ان کے کسی کام میں کوتاہی نہیں کرتی صرف اس کام کا معاملہ مختلف ہے جس سے میں عاجز آ جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کے بارے میں کیا سمجھتی ہو وہ تمہاری جنت ہے ، اور وہ تمہاری جہنم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم اس کے ساتھ کیسی ہو“ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔