مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ . باب: عزل کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبَايَا ، وَإِنَّا لَنَعْزِلُ عَنْهُنَّ ؟ قَالَ : " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " مَا مِنْ نَسَمَةٍ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ صُلْبِ رَجُلٍ إِلَّا وَهِيَ خَارِجَةٌ إِنْ شَاءَ ، وَإِنْ أَبَى فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں قیدی عورتیں ملی ہیں ہم ان کے ساتھ عزل کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایسا کرتے ہو ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس بھی جان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہو کہ وہ کسی شخص کی پشت سے نکلے گی ، تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ نکل کے رہے گی اگر تم نہیں مانتے ، تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔