مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ يَدْعُوهَا زَوْجُهَا فَتَعْتَلُّ . باب: اس عورت کا بیان ، جسے اس کا شوہر بلاتا ہے ، اور وہ کوئی عذر بیان کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 7570
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُسَوِّفَةَ وَالْمُفَسِّلَةَ . ¤ فَأَمَّا الْمُسَوِّفَةُ : فَالَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ : سَوْفَ ، الْآنَ . ¤ وَأَمَّا الْمُفَسِّلَةُ : الَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ . وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسوفہ اور مفسلہ پر لعنت کی ہے ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) جہاں تک مسوفہ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے اس کے ساتھ صحبت کا ارادہ کیا ہو اور وہ یہ کہے : تھوڑی دیر بعد کر لیں گے ۔ جہاں تک لفظ مفسلہ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے ساتھ اس کے شوہر نے صحبت کا ارادہ کیا ہو ، تو وہ یہ کہہ دے کہ مجھے حیض آیا ہوا ہے حالانکہ اسے حیض نہ آیا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلا ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔