حدیث نمبر: 7571
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُسَوِّفَاتِ " قِيلَ : وَمَا الْمُسَوِّفَاتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّتِي يَدْعُوهَا زَوْجُهَا إِلَى فِرَاشِهَا فَتَقُولُ : سَوْفَ . حَتَّى تَغْلِبَهُ عَيْنَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَمَيْسَرَةُ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ أَرَ لِأَبِيهِ مِنِ ابْنِ عُمَرَ سَمَاعًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مسوفات پر لعنت کرے عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! مسوفات کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عورت جس کا شوہر اسے بستر کی طرف بلائے ، اور وہ یہ کہے کہ تھوڑی دیر بعد ، یہاں تک کہ شوہر کی آنکھ لگ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر جعفر بن میسرہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ اور میسرہ نامی راوی ضعیف ہے میں نے ان کے والد کے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع کے بارے میں کچھ نہیں دیکھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7571
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف