مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ السُّؤَالِ عَنِ الْفِقْهِ . باب: فقہ کے بارے میں سوال کرنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَقَدْ عِشْتُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهَا كَمَا تَعَلَّمُونَ أَنْتُمُ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ ، فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا آمِرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ ، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ [ مِنْهُ ] ، وَيَنْثُرَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے ایک زمانہ ایسے عالم میں گزارا ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کو قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا ، جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سورت نازل ہوتی تھی ، تو وہ شخص اُس کے حلال اور حرام کا علم حاصل کرتا تھا ، اور اُس چیز کا بھی علم حاصل کرتا تھا ، جس سے واقف ہونا اُس کے لئے مناسب تھا ، بالکل اسی طرح ، جس طرح ( آج کے زمانے میں ) تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرتے ہو ، پھر میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ، جنہیں ایمان سے پہلے قرآن دے دیا گیا ، وہ سورہ فاتحہ سے لے کر قرآن کے آخر تک پورا پڑھ لیتے ہیں ، لیکن انہیں یہ پتا نہیں ہوتا کہ قرآن انہیں کیا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے ؟ اور ایسے شخص کے لیے یہ مناسب بھی نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کا علم حاصل کرے ، وہ تیزی سے اس کو یوں پڑھتا ہے ، جس طرح ردی کھجوریں پھینک دی جاتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔