مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَوَى أَنْ لَا يُؤَدِّيَ صَدَاقَ امْرَأَتِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نیت کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کرے گا
وَعَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مِنَ الْمَهْرِ أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا فَمَاتَ ، وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهُوَ زَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا فِي الْبُيُوعِ فِي الدِّينِ . ¤میمون کر دی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تھوڑے ، یا زیادہ مہر کے عوض میں ، عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے ، اور اس کے دل میں نہ ہو کہ وہ اس عورت کو اس کا حق ادا کرے گا ، وہ اس عورت کو دھوکہ دیتا ہے ، اور پھر اسی حالت میں مر جاتا ہے ، اور اس نے اس عورت کو اس کا حق ادا نہیں کیا ہوتا ، تو قیامت کے دن ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ ( شخص ) زانی شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی چند احادیث ” خرید و فروخت “ سے متعلق باب میں ” قرض “ سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔