مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشَّرِيفَاتِ . باب: معزز خاندان کی خواتین
قَالَ : إِنَّهَا لَصَغِيرَةٌ عَنْ ذَلِكَ . - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : زَوِّجَا عَمَّكُمَا . فَقَالَا : هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ تَخْتَارُ لِنَفْسِهَا . فَقَامَ عَلِيٌّ ، وَهُوَ مُغْضَبٌ فَأَمْسَكَ الْحَسَنُ بِثَوْبِهِ وَقَالَ : لَا صَبْرَ عَلَى هُجْرَانِكَ يَا أَبَتَاهُ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ عَقِيلٍ . ¤ وَفِي الْمَنَاقِبِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤امام طبرانی نے منجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو ابھی بہت کمسن ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم دونوں اپنے چچا کی شادی کروا دو ! تو ان دونوں حضرات نے عرض کی : وہ ایک خاتون ہیں ، وہ اپنی ذات کے لئے جو چاہیں اختیار کر سکتی ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کا کپڑا پکڑ لیا اور بولے : اے ابا جان ! آپ سے لاتعلقی برداشت نہیں ہو سکتی ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ۔ مناقب سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آئیں گی ۔