مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشَّرِيفَاتِ . باب: معزز خاندان کی خواتین
عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَسَارَّهُ ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَجَاءَ الصُّفَّةَ فَوَجَدَ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَالْحُسَيْنَ فَشَاوَرَهُمْ فِي تَزْوِيجِ عُمَرَ أُمَّ كُلْثُومٍ فَغَضِبَ عَقِيلٌ وَقَالَ : يَا عَلِيُّ مَا تَزِيدُكَ الْأَيَّامُ وَالشُّهُورُ وَالسُّنُونَ إِلَّا الْعَمَى فِي أَمْرِكَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ لَيَكُونَنَّ وَلَيَكُونَنَّ لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا . وَمَضَى يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْعَبَّاسِ : وَاللَّهِ مَا ذَلِكَ مِنْهُ نَصِيحَةٌ ، وَلَكِنَّ دِرَّةَ عُمَرَ أَحْرَجَتْهُ إِلَى مَا تَرَى ، أَمَا وَاللَّهِ مَا ذَاكَ رَغْبَةٌ فِيكَ يَا عَقِيلُ ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . فَضَحِكَ عَمَرُ وَقَالَ : وَيْحَ عَقِيلٍ سَفِيهٌ أَحْمَقُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤اسلم ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھے اور صفہ کے چبوترے پر آ گئے وہاں ۔ انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو موجود پایا ، انہوں نے ان حضرات کے ساتھ اس بارے میں مشورہ لیا کہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شادی کروا دیں ، تو سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : اے علی ! دن ، مہینے ، سال تمہارے اندھے پن میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا ، تو یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا ، انہوں نے متعدد چیزیں شمار کروا دیں ، پھر وہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے تشریف لے گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ اس شخص کی طرف سے خیرخواہی نہیں ہے ، بلکہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درے نے اسے حرج میں مبتلا کر کے وہاں تک پہنچا دیا ہے ، جو آپ نے دیکھا ہے ، اللہ کی قسم ! اے عقیل ! یہ تمہارے بارے میں رغبت نہیں ہے ، بلکہ عمر بن خطاب نے مجھے یہ بتایا ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، ہر سبب اور ہر نسب منقطع ہو جائے ، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ ( جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ چلا ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور بولے : عقیل بہت ہی بے وقوف اور احمق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔