مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ ، [ ثُمَّ ] يَتَزَوَّجُهَا أَوْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا أَوْ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے اور پھر وہ اس عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ، یا اس عورت کی بیٹی ، یا اس کی ماں کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا أَيَنْكِحُ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا أَيَنْكِحُ ابْنَتَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ إِنَّمَا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بِنِكَاحٍ حَلَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتا ہے ، کیا وہ اس عورت کی ماں کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے ؟ یا کوئی شخص ماں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے ، تو کیا وہ اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حرام چیز حلال کو حرام نہیں کرتی ہے ، وہ چیز حرمت کو ثابت کرتی ہے ، جو حلال نکاح کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے اور وہ متروک ہے ۔