مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ . باب: احرام والے شخص کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ ) فَهُوَ لَا حَرَجَ عَلَيْكُمْ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ قَبْلَ الْإِحْرَامِ وَبَعْدَهُ فَأَمَّا الْإِحْرَامُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَتَزَوَّجَ أَوْ يُزَوَّجَ أَوْ يَنْحَرَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ إِحْرَامِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْنَهُمَا مُجَاهِدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو“ یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ اگر تم خرید و فروخت احرام سے پہلے کرتے ہو یا اس کے بعد کرتے ہو ، جہاں تک احرام کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی ( احرام کے دوران ) شادی کرے ، یا شادی کروائے یا قربانی کرے ، جب تک وہ احرام سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، ان دونوں کے درمیان ایک راوی مجاہد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔