حدیث نمبر: 7384
وَعَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ ، ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ : فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُتْعَةِ . قَالَ : فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ - أَوْ قَالَ : فِي أَعْلَى مَكَّةَ - فَلَقِيَتْنَا فَتَاةٌ كَأَنَّهَا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ : فَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ [ غَضٌّ ] وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ . قَالَ : فَقُلْنَا لَهَا : هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا ؟ قَالَتْ : وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَتْ : فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا : إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدُ ابْنِ عَمِّي خَلَقٌ مَحٌّ . قَالَتْ : بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ . قَالَ : فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے ، ہم نے ( مکہ میں ) پندرہ سے لے کر تیس کے درمیان دنوں کا قیام کیا ، اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کرنے کی اجازت دے دی ، راوی کہتے ہیں : میں اور میرا چچازاد مکہ کے زیریں علاقے میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) بالائی علاقے میں نکلے ، ہماری ملاقات ایک نوجوان خاتون سے ہوئی ، جس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے لگ رہا تھا ، اور وہ لمبی گردن کی مالک جوان عورت تھی ، میں کچھ بدصورت تھا ، میرے جسم پر عمدہ لباس تھا اور میرے چازاد کی چادر پرانی تھی ، ہم نے اس سے کہا: کیا ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کر سکتا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : کیا یہ درست ہے ؟ ہم نے کہا: جی ہاں ! اس نے میرے چچازاد کی طرف دیکھنا شروع کیا ، میں نے اس سے کہا: میری یہ چادر نئی اور عمدہ ہے اور میرے چچازاد کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے ، اس نے کہا: تمہارے چچازاد کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، پھر اس چچازاد نے اس عورت کے ساتھ متعہ کر لیا ، پھر ہمارے مکہ سے نکلنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دے دیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کے برعکس منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (15346)»