مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرَّضَاعِ . باب: رضاعت کا بیان
وَعَنْ أَبِي قُعَيْسٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَكَرِهَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جَاءَنِي أَبُو قُعَيْسٍ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . وَكَانَ أَبُو قُعَيْسٍ أَخَا ظِئْرِ عَائِشَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضَعُفَ . ¤سیدنا ابوقعیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو انہیں اجازت دینا اچھا نہیں لگا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوقعیس میرے ہاں آئے تھے ، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارے ہاں آ سکتے ہیں ، وہ تمہارے چچا ہیں ، راوی کہتے ہیں : ابوقعیس ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ثقہ ہے ، ویسے وہ ضعیف ہے ۔