حدیث نمبر: 7368
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَةً وَرِمَ ثَدْيُهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ بَطْنَهُ . فَقَالَ : لَا أَرَاهَا تَصْلُحُ لَهُ . فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ إِنَّمَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَشَدَّ الْعَظْمَ ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ . فَقِيلَ لِأَبِي مُوسَى فَقَالَ : لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَقَامَ هَذَا بَيْنَ أَظْهُرِنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

ابوعطیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اس کی بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا ، اس نے اسے چوسنا اور گھونٹ بھرنا شروع کیا ، تو کچھ دودھ اس کے پیٹ میں چلا گیا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے اب وہ عورت تمہارے لئے درست ( یعنی حلال ) نہیں رہی ، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ عورت تم پر حرام نہیں ہوئی ہے وہ رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے ، جو گوشت پیدا کرتی ہے اور ہڈیاں مضبوط کرتی ہے اور دودھ چھڑا لینے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے ، سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے اُس وقت تک کوئی مسئلہ نہ پوچھنا ، جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے یہ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7368
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8500)»