حدیث نمبر: 7325
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَبِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا . قَالَ : " أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ . قَالَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لِدِينِهَا وَمَالِهَا وَجِمَالِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ . " . إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جابر ! کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنواری کے ساتھ کہ ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی : شیبہ کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری کے ساتھ کیوں نہ کی ؟ کہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بہنیں ہیں ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ میرے اور میری بہنوں کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت کے ساتھ اس کے دین ، یا اس کے مال ، یا اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ، تو تم پر دین دار کو اختیار کرنا لازم ہے ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” عورت کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (302/3)»