حدیث نمبر: 7321
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ تَشُقُّ عَلَيَّ هَذِهِ الْعُزْبَةُ فِي الْمَغَازِي فَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَأَخْتَصِي ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالصِّيَامِ ، فَإِنَّهَا مَخْفَرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جنگوں کے دوران اکیلا رہنا مجھ پر گراں گزرتا ہے ، تو آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اے ابن مظعون ! تم پر روزے رکھنا لازم ہے ، کیونکہ یہ شہوت کو ختم کر دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7321
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8320)»