مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَثِّ عَلَى النِّكَاحِ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ باب: نکاح کی ترغیب دینا اور اس بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَكَّافُ أَلَكَ زَوْجَةٌ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٌ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ؛ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . قَالَ : " فَأَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ، إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رُهْبَانِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنَّا . فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحَ . شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ أَمْوَاتِكُمْ عُزَّابُكُمْ . أَبِالشَّيَاطِينِ يَمْرُسُونَ ؟ مَا لَهُمْ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ ، فَإِنَّكَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ " . قَالَ : فَقَالَ عَكَّافٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُزَوِّجَنِي مَنْ شِئْتَ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عطیہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کنیز بھی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم تندرست اور خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ہو ، یا تو تم عیسائیوں کے راہبوں میں ہوتے ، تو ان میں سے ایک ہوتے ، اگر تم ہم میں سے ہو گے ؟ تو تم وہ کرو ، جس طرح ہم کرتے ہیں اور ہماری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے ، تمہارے برے لوگ کنوارے ہیں ، اور بری موت کا شکار ہونے والے کنوارے ہیں کیا وہ شیطان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ؟ میرے خیال میں شیاطین کا کوئی بھی ہتھیار ، نیک لوگوں کے بارے اس سے زیادہ تیز نہیں ہے ، جو مردوں اور عورتوں کا تعلق ہوتا ہے ، البتہ شادی کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو سیدنا ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو تم شادی کر لو ! کیونکہ تم درمیان کے لوگوں میں سے ہو ( یا تذبذب کا شکار لوگوں میں سے ہو ) راوی کہتے ہیں : سیدنا عکاف رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گا ، جب تک آپ جس سے چاہیں ، میری شادی نہیں کروا دیتے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں اللہ کا نام لے کر اور اس کی برکت کے ساتھ ، تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔