مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَثِّ عَلَى النِّكَاحِ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ باب: نکاح کی ترغیب دینا اور اس بارے میں جو منقول ہے
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ ؟ " قَالَ : وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ . قَالَ : " أَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ، لَوْ كُنْتَ مِنَ النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ ، أَبِالشَّيَاطِينِ تَمْرُسُونَ ؟ مَا لِلشَّيَاطِينِ سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا . وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ " . قَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ : مَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَمِائَةِ عَامٍ ؛ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ . وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ " . قَالَ : زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کا نام عکاف بن بشر تمیمی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کنیز بھی نہیں ہے ؟ اس نے عرض کی ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم بھلائی کے ساتھ خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھلائی کے ساتھ خوشحال ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ایک ہو ، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے ، تو ان کے راہبوں میں سے ایک ہوتے ، ہماری سنت نکاح کرنا ہے اور تم میں سے برے لوگ کنوارے ہیں اور تم میں بری موت کنواروں کو آتی ہے ، کیا تم شیاطین کے راستے پر چلنا چاہتے ہو ؟ شیاطین کا کوئی ہتھیار ایسا نہیں ہے ، جو نیک لوگوں کے بارے میں ، عورتوں سے زیادہ تیز ہو ، البتہ شادی کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ لوگ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ، اے عکاف ! تمہارا سیتاناس ہو ، یہ ( خواتین ) سیدنا ایوب علیہ السلام سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا یوسف علیہ السلام اور کرسف کی بیویاں رہی ہیں ( یا یہ حضرات بھی شادی شدہ تھے ) ۔
راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” کرسف“ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا ، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عبادت کی تھی ، اسے چھوڑ دیا ، پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی ، اس نے توبہ کی ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم شادی کر لو ! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری شادی کروا دیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔